روز ملتے ہیں چار پانچ بدن
ایک دو بار چار پانچ سجن
مجھ کو مطلوب صرف ایک جھلک
اس کو درکار چار پانچ ملن
جنگ انجام ساتھ لائی ہے
بھاگ کر لاؤ چار پانچ کفن
صبر کا امتحان لیتے ہیں
ایک کرتے کے چار پانچ بٹن
گولی انسان پر چلائی ہے
بھاگ اٹھے ہیں چار پانچ ہرن
اکرام عارفی
No comments:
Post a Comment