Saturday, 13 March 2021

ابھی تو زندہ ہیں کہتے ہو یارا کیا ہو گا

 ابھی تو زندہ ہیں کہتے ہو یارا کیا ہو گا

ہمارے بعد نہ جانے تمہارا کیا ہو گا

ہمارا خود پہ گزارا نہیں ہے مدت سے

ہمارے ساتھ،، کسی کا گزارا کیا ہو گا

نکالو آنکھ سے سُرمہ نمک بھرو اس میں 

موازنہ کرو اشکوں سے، کھارا کیا ہو گا

وہ میرے ساتھ غریبی میں بھی بہت خوش ہے

شبِ سیاہ جب آئی ستارہ☆ کیا ہو گا

یہ دیکھنے کیلئے کیوں نہ ایک دن مر جائیں 

ہمارے ساتھ اسی دن دوبارہ کیا ہو گا


مژدم خان

No comments:

Post a Comment