ابھی تو زندہ ہیں کہتے ہو یارا کیا ہو گا
ہمارے بعد نہ جانے تمہارا کیا ہو گا
ہمارا خود پہ گزارا نہیں ہے مدت سے
ہمارے ساتھ،، کسی کا گزارا کیا ہو گا
نکالو آنکھ سے سُرمہ نمک بھرو اس میں
موازنہ کرو اشکوں سے، کھارا کیا ہو گا
وہ میرے ساتھ غریبی میں بھی بہت خوش ہے
شبِ سیاہ جب آئی ستارہ☆ کیا ہو گا
یہ دیکھنے کیلئے کیوں نہ ایک دن مر جائیں
ہمارے ساتھ اسی دن دوبارہ کیا ہو گا
مژدم خان
No comments:
Post a Comment