Saturday, 13 March 2021

اس نے اک شام بلا کر جو پلائی چائے

 اس نے اک شام بلا کر جو پلائی چائے

مجھ کو میٹھی لگی اس ہاتھ کی پھیکی چائے

اس طرح لمس لیا اس کے لبوں کا میں نے

پی گیا اس کی مزے لے کے میں جوٹھی چائے

بن گئی تھی اسی اک لمحے میں وہ چائے شراب

مسکرائی تھی وہ، جب اس نے مجھے دی تھی چائے

کبھی سگریٹ جلا دیتا ہے انگلی میری

اس کی یادیں کبھی کر دیتی ہیں ٹھنڈی چائے

جب سے انکار کیا اس نے مِری چائے سے

چھوڑ دی میں نے سدا کے لیے پینی چائے

آج بھی اس کی جلن یاد بہت آتی ہے

جلے تھے ہونٹ مِرے گرم تھی اتنی چائے

آج تک میں نے وہ پیالی نہیں دھوئی ہے کمال

اس نے اک گھونٹ ہی جس پیالی میں پی تھی چائے


احمد کمال حشمی

No comments:

Post a Comment