Saturday, 20 March 2021

جب تک در ایوان جلایا نہیں جاتا

 جب تک درِ ایوان جلایا نہیں جاتا

تب تک کسی حاکم کو جگایا نہیں جاتا

ان اہلِ سیاست کی یہ سفاک روِش ہے

عالم کو بھی قاتل سے بچاتا نہیں جاتا

ظالم کے ستم سے ہو اگر خلقِ خدا تنگ

دنیا!! اسے کیا مار گِرایا نہیں جاتا

پیرانِ عجم!! کیجیے تدبیر ابھی آپ

مجھ سے تو مِرے کرب کا سایا نہیں جاتا

مقدور اگر ہو تو پہنچانا سہولت

جمہور کو انگلی پہ نچایا نہیں جاتا

حالات بدل سکتے ہیں کروٹ کسی لمحے

ہو جنگ تو گھوڑے کو سدھایا نہیں جاتا

عادل جو کمایا ہوا ہے داغِ محبت

یہ داغ زمانے کو دکھایا نہیں جاتا


عزیز عادل

No comments:

Post a Comment