Saturday, 7 August 2021

دکھ زخمی سپنوں کا دل کے اندر بولے گا

 دُکھ زخمی سپنوں کا دل کے اندر بولے گا

جب منظر چُپ سادھے گا پس منظر بولے گا

تیرے ہجر کا دامن تھامے آخرِ شب کا چاند

اوجِ فلک کے دروازے سے لگ کر بولے گا

تیسری آنکھ کا دور ہے سائیں مت انجان بنو

پھینکنے والا آخر کون تھا؟ پتھر بولے گا

کچھ دُشوار نہیں ہے سہنا بے مہری کا دُکھ

جیسے دُکھ بس دو پل دل کے اندر بولے گا

دیکھو، اتنا ظلم نہ کرنا بستی والوں پر

ورنہ کوئی تم سے نہ میرے دلبر بولے گا


عزیز عادل

No comments:

Post a Comment