زندگانی میں ہے خوشی تم سے
زندگی زندگی بنی تم سے
ہاڑ کی دھوپ نے جلایا ہمیں
آس ہم کو تھی چھاؤں کی تم سے
کیا تمہیں مجھ پہ اعتبارنہیں
میں کروں اور دل لگی تم سے
کام کرنے کو جی نہیں کرتا
تنگ آیا ہوں شاعری تم سے
میں بھی رستہ بدلنے والا ہوں
ہے ملاقات آخری تم سے
عزیز عادل
No comments:
Post a Comment