Monday, 3 May 2021

اگر ہم ایک ہیں تو پھر ہمیں ڈرنا نہیں لڑنا ہے

 خود کلامی

(آئسولیشن میں ایک مریض اپنے ہمزاد سے)


اگر ہم ایک ہیں

تو پھر

ہمیں ڈرنا نہیں

لڑنا ہے، ایک ان دیکھے دشمن سے

جو خیمہ زن ہے، میرے اور تمہارے جسم کے خلیوں کے گردا گرد

اپنی سانس روکے

ٹکٹکی باندھے

مسلسل گھُورتا جاتا ہے، ہم کو چاروں سمتوں سے

نڈر، چالاک اور ماہر شکاری کی طرح سے

مُنجمِد کرتا چلا جاتا ہے، میری اور تمہاری ہر رگِ جاں کو

مگر نظروں کے قابو میں نہیں آتا

اگر ہم ایک ہیں

تو پھر

مِرے بھائی

ہم اپنی مشترک تنہائی اوڑھے

آئسولیشن کے در و دیوار سے چپکے ہوئے، بے مہر سناٹے کی ٹک ٹک میں

جگر کو تھام کر

سانسوں کے بے ترتیب وقفوں میں

کریں گے جمع اپنی ہمتوں کو آخری دم تک

اگر ہم ایک ہیں

تو پھر

ہمیں ڈرنا نہیں ہے

صرف لڑنا بھی نہیں ہے

مارنا ہے

مارنا ہے، اس کرونے، اس گھناؤنے وائرس کو مارنا ہے

ادھر دیکھو

میرے ہمزاد، ادھر دیکھو

حواسِ خمسہ کو ترتیب دو بھائی

اگر ہم ایک ہیں تو

اس کے ان دیکھے بدن میں گاڑ دیں گے، سارے مل جل کر

کروڑوں انگلیوں کے تیز خنجر

بالآخر اس وبالِ جاں وبا کی ہر نشانی کو مٹا دیں گے

وہاں سے بھی

جہاں کی تجربہ گاہوں میں بویا اور پھر کاٹا گیا

پھر ساری دنیا کے غریبوں اور امیروں میں

مساوی طور پر بانٹا گیا اس کو


ایوب خاور

No comments:

Post a Comment