نئی تہذیب کی صورت بدل جائے تو اچھا ہے
جنوں خیزی کا یہ طوفان ٹل جائے تو اچھا ہے
صدائیں آ رہی ہیں ایک ان دیکھے جزیرے سے
کہ نسلِ آدم و حوا سنبھل جائے تو اچھا ہے
مِرے بگڑے ہوئے ماحول کے انساں کا وحشی پن
شرافت کے کسی سانچے میں ڈھل جائے تو اچھا ہے
جو اندھا بھی ہے اور منہ زور بھی اور مضطرب بھی ہے
وہ جوبن وقت سے پہلے ہی ڈھل جائے تو اچھا ہے
ارادہ دیکھ کر میرا کہا وقتِ سفر اس نے
تِرا رختِ سفر اے کاش جل جائے تو اچھا ہے
یوسف خالد
No comments:
Post a Comment