یہیں سے لوٹ چلو واسطہ خدا کا ہے
کہ اب انا کا نہیں مسئلہ بقا کا ہے
تِرے چراغ کا بُجھنا انوکھی بات نہیں
بہت دنوں سے یہی مشغلہ ہوا کا ہے
یہ اور بات کہ چُپ ہیں مروتاً، ورنہ
گِلہ ہمیں بھی سخن ہائے ناسزا کا ہے
سلام کرتا ہے ہر کوئی چڑھتے سورج کو
بُرا نہ مان کہ یہ دور ہی ریا کا ہے
مِرے سخن کی پذیرائی میرے فن کا جمال
یہ معجزہ کسی درویش کی دعا کا ہے
یہ بات ننھے شگوفوں سے کیوں چھپائی گئی
کہ ہاتھ پھُول کی رُسوائی میں صبا کا ہے
تمہارا زعمِ محبت بجا سہی انصر
مگر وہ شخص بھی مغرور انتہا کا ہے
سید انصر
No comments:
Post a Comment