Monday, 3 May 2021

کاغذ کی پلیٹوں میں کھانے کا تقاضہ ہے

 کاغذ کی پلیٹوں میں کھانے کا تقاضا ہے

حالات کے شانے پہ کلچر کا جنازہ ہے

اب گھر کے دریچے میں آئے گی ہوا کیسے

آگے بھی پلازہ ہے پیچھے بھی پلازہ ہے

تم عقدِ مسلسل سے دادا کو نہیں روکو

شادی کی ضرورت تو فطرت کا تقاضا ہے

دولت کا ذرا سا بھی عزت سے نہیں رشتہ

اللہ نے لیڈر کو دولت سے نوازا ہے

معیارِ امارت سے شعروں کو نہیں ناپو

روٹی مِری باسی ہے لہجہ مِرا تازہ ہے


خالد عرفان

No comments:

Post a Comment