کاغذ کی پلیٹوں میں کھانے کا تقاضا ہے
حالات کے شانے پہ کلچر کا جنازہ ہے
اب گھر کے دریچے میں آئے گی ہوا کیسے
آگے بھی پلازہ ہے پیچھے بھی پلازہ ہے
تم عقدِ مسلسل سے دادا کو نہیں روکو
شادی کی ضرورت تو فطرت کا تقاضا ہے
دولت کا ذرا سا بھی عزت سے نہیں رشتہ
اللہ نے لیڈر کو دولت سے نوازا ہے
معیارِ امارت سے شعروں کو نہیں ناپو
روٹی مِری باسی ہے لہجہ مِرا تازہ ہے
خالد عرفان
No comments:
Post a Comment