Monday, 3 May 2021

اک دل کی خاطر اتنے تو فتنے کبھی نہ تھے

 اک دل کی خاطر اتنے تو فتنے کبھی نہ تھے

ہوتے ہر اک قدم پہ یہ دھوکے کبھی نہ تھے

پھولوں کی تازگی میں اداسی ہے شام کی

سائے غموں کے اتنے تو گہرے کبھی نہ تھے

بادِ صبا سے پوچھئے؛ آخر ہے بات کیا؟

چہرے گُلوں کے اس قدر اُترے کبھی نہ تھے

دامن میں ہر سحر کے جو منظر ہے شام کا

نقشے جہاں کے ایسے تو دیکھے کبھی نہ تھے

اپنی طرف بھی دیکھا تو حائل وہ ہو گئے

آنکھوں میں بن کے خواب جو اُترے کبھی نہ تھے


فراز سلطانپوری

No comments:

Post a Comment