Monday, 6 March 2023

پھول بھی لاؤں گا میں جنگ میں تلوار کے ساتھ

 پھول بھی لاؤں گا میں جنگ میں تلوار کے ساتھ

ایک شاعر بھی ہوں لشکر کے کماندار کے ساتھ

تختۂ دار بھی ہے، کوئی طرفدار بھی ہے

دیکھیے اب کہ جو ہوتا ہے گرفتار کے ساتھ

اس کے بوسے مجھے تھکنے ہی نہیں دیتے ہیں

کوئی خوش رہتی ہے مجھ ایسے بھی بیکار کے ساتھ

بن میں بن بن کے دکھاتا ہے کہ یہ جسمِ ہرن

حسنِ تجنیس بھی ہے صنعتِ تکرار کے ساتھ

ایسی بے محل اداسی کا کوئی حل ہی نہیں

بڑھتی جاتی ہے جو ہر دن حسِ بیدار کے ساتھ

چھوڑ دیتا ہے کہ شاید میں سنبھل جاؤں گا

یار ایسے بھی کوئی کرتا ہے بیمار کے ساتھ

یا بچھڑ جانا تھا اس بت نے یا مر جانا تھا

کچھ نا کچھ ہونا تھا مجھ ایسے گنہگار کے ساتھ

جانے والوں کو بھی  کچھ ہو گا جدائی کا دماغ

ہم بھی خاموشی سے لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

مارتے وقت کہاں اس کا قلم سوچتا ہے

کوئی وابستہ ہے کتنا کسی کردار کے ساتھ

خوش ہوا کوئی کہ دنیا بڑی روشن ہے امیر

اور ہم جلنے لگے اور بھی رفتار کے ساتھ


امیر سخن

No comments:

Post a Comment