Friday, 13 August 2021

دائرے کی طرح گھومتا وقت ہوں

 دائرے کی طرح گھومتا وقت ہوں

کُن سے پہلے تو ٹھہرا ہوا وقت ہوں

چھوڑ جا اس سے پہلے تجھے آ لگوں

دوستا! یاد رکھ میں بُرا وقت ہوں

تم ہوا کے قبیلے سے ہو پر سنو

میں چراغوں کے بیدار کا وقت ہوں

تم فلک زاد ہو، تیرتے چاند ہو 

اور میں جھیل میں ڈُوبتا وقت ہوں

میں بھی سیماب صحرا قبیلے سے ہوں 

میں بھی مٹھی سے پھسلا ہوا وقت ہوں

اے زمیں! تیرے محور سے آگے کی بات 

ماورائے کشش ہوں، خلا، وقت ہوں


امیر سخن

No comments:

Post a Comment