Wednesday, 9 February 2022

عین زادی یہ خواب زرد آنکھوں کے خواب

 خواب زرد آنکھوں کے خواب


عین زادی یہ خواب

زرد آنکھوں کے خواب

قرب کے دور میں اپنے مولود خواب

عقل کی سرخ ریشم میں لپٹے ہوئے

ایک بند طاقچے میں جنہیں ڈال کر

آنکھ کے نیل میں برد کر آیا تھا

خواب بہتے رہے اور بہتے گئے

عین زادی یہ خواب زرد آنکھوں کے خواب

عین زادی جو دیکھو تو یہ دیکھنا

نیند کے خام لوہے کو کوٹ کر

خواب آنکھوں کی پرتوں میں ڈھالے گئے

بارشیں روک کر سرخ نینن کے دریا اچھالے گئے

خشک آنکھوں کی ریتی کو اب چھان کر

سیپیاں چن سکو گر تو چن لانا تم

زرد سرما کے سہمے ہوئے 

رتجگوں کو اندھیرے میں ڈر لگتا ہے

عین زادی گہے کچھ جو دیکھو تو پھر

آسمانوں کی آنکھوں سے بالکل ورا دیکھنا

اتنا آگے جہاں قدسیوں کے پروں کی کھنک بھی نہیں

آسمانوں کو اس کی بھنک بھی نہیں

اتنا آگے جہاں حیرتیں گنگ کھڑی 

اک بے صورت کی مورت میں ڈھل جاتی ہوں

اتنا آگے جہاں صورتیں دنگ کھڑی 

ایک مٹی کی آتش سے جل جاتی ہوں

ایک دم دھندلکے میں ہرے نور کی

 جونہی بندِ قبا تھوڑی کھلنے لگے

لامکانوں کی کھڑکی سے مہتاب رو 

اپنی کرنیں جہاں پر نچھاور کرے

ہر کسی غوث کو ہر کسی قطب کو 

اس ہرے نور کا جب مجاور کرے

تم تبھی اپنی مخروط رو انگلیوں سے 

مِری انگلیوں پہ حنا ڈالنا

سب زمینوں، سیاروں، ستاروں پہ تم 

اپنے پوروں سے حرفِ دعا ڈالنا

عین زادی اگر سن سکو تو سنو

کیسے تحت الثرٰی میں تِرے اور مِرے عشق کا 

نغمہ اک مطربہ کے ارم کش لبوں پر لکھا جاتا ہے

سن کہ روح الامیں شہ پروں سے ردھم بنتے ہیں

سن کہ دنیا بناتے ہوئے کردگارِ جہاں بھی یہی سنتے ہیں

سن ذرا یہ وہی نظم ہے جو کہ 

صدیوں سے تجھ پر لکھی جا رہی ہے

اور محسوس کر

وہ ہی احساس جو کعب قوسین میں

دو وجودوں سے اک دوسرے کے گلے مل کے جانا گیا

تو بھی محسوس کر


امیر سخن

No comments:

Post a Comment