خواب زرد آنکھوں کے خواب
عین زادی یہ خواب
زرد آنکھوں کے خواب
قرب کے دور میں اپنے مولود خواب
عقل کی سرخ ریشم میں لپٹے ہوئے
ایک بند طاقچے میں جنہیں ڈال کر
آنکھ کے نیل میں برد کر آیا تھا
خواب بہتے رہے اور بہتے گئے
عین زادی یہ خواب زرد آنکھوں کے خواب
عین زادی جو دیکھو تو یہ دیکھنا
نیند کے خام لوہے کو کوٹ کر
خواب آنکھوں کی پرتوں میں ڈھالے گئے
بارشیں روک کر سرخ نینن کے دریا اچھالے گئے
خشک آنکھوں کی ریتی کو اب چھان کر
سیپیاں چن سکو گر تو چن لانا تم
زرد سرما کے سہمے ہوئے
رتجگوں کو اندھیرے میں ڈر لگتا ہے
عین زادی گہے کچھ جو دیکھو تو پھر
آسمانوں کی آنکھوں سے بالکل ورا دیکھنا
اتنا آگے جہاں قدسیوں کے پروں کی کھنک بھی نہیں
آسمانوں کو اس کی بھنک بھی نہیں
اتنا آگے جہاں حیرتیں گنگ کھڑی
اک بے صورت کی مورت میں ڈھل جاتی ہوں
اتنا آگے جہاں صورتیں دنگ کھڑی
ایک مٹی کی آتش سے جل جاتی ہوں
ایک دم دھندلکے میں ہرے نور کی
جونہی بندِ قبا تھوڑی کھلنے لگے
لامکانوں کی کھڑکی سے مہتاب رو
اپنی کرنیں جہاں پر نچھاور کرے
ہر کسی غوث کو ہر کسی قطب کو
اس ہرے نور کا جب مجاور کرے
تم تبھی اپنی مخروط رو انگلیوں سے
مِری انگلیوں پہ حنا ڈالنا
سب زمینوں، سیاروں، ستاروں پہ تم
اپنے پوروں سے حرفِ دعا ڈالنا
عین زادی اگر سن سکو تو سنو
کیسے تحت الثرٰی میں تِرے اور مِرے عشق کا
نغمہ اک مطربہ کے ارم کش لبوں پر لکھا جاتا ہے
سن کہ روح الامیں شہ پروں سے ردھم بنتے ہیں
سن کہ دنیا بناتے ہوئے کردگارِ جہاں بھی یہی سنتے ہیں
سن ذرا یہ وہی نظم ہے جو کہ
صدیوں سے تجھ پر لکھی جا رہی ہے
اور محسوس کر
وہ ہی احساس جو کعب قوسین میں
دو وجودوں سے اک دوسرے کے گلے مل کے جانا گیا
تو بھی محسوس کر
امیر سخن
No comments:
Post a Comment