Wednesday, 9 February 2022

سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہو

 سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہو

پھانسی چڑھے جو قیدی زلف رسا نہ ہو

مضموں وہ کیا جو لذت غم سے بھرا نہ ہو

شاعر وہ کیا کلام میں جس کے مزا نہ ہو

بدنام میرے واسطے وہ دلربا نہ ہو

یارب عدو کے ہاتھ سے میری قضا نہ ہو

جب اپنی کوئی بات بغیر از دعا نہ ہو

دشمن کے کہنے سننے سے ناداں خفا نہ ہو

ہو وہ اگر خلاف موافق ہوا نہ ہو

ڈوبے وہ ناؤ جس کا خدا ناخدا نہ ہو

دلدادگی کو حسن خداداد کم نہیں

ناصح اگر نہیں ہے بتوں میں وفا نہ ہو

روز جزا وہ شوخ ملے ہم کو اے خدا

اس کے سوا کچھ اور عدو کی سزا نہ ہو

مشکل کا سامنا ہو تو ہمت نہ ہاریے

ہمت ہے شرط صاحب ہمت سے کیا نہ ہو

بت آذران وقت بنائیں اگر ہزار

تیرا نظیر ایک بھی نام خدا نہ ہو

دھوکے میں میرے قتل کیا اس نے غیر کو

قاتل کا کیا قصور جو میری قضا نہ ہو

سچ ہے کہ ہر کمال کو دنیا میں ہے زوال

ایسا بڑا ہے کون جو آخر گھٹا نہ ہو

روز جزا سے واعظ ناداں اسے ڈرا

صدمہ شب فراق کا جس نے سہا نہ ہو

ملتا نہیں پتا تِرے چھلے کے چور کا

اے گل بدن یہ شوخئ دزد حنا نہ ہو

تیرا گلہ نہ غیر کا شکوہ زباں پہ ہے

کرتا ہوں عرض حال ستمگر خفا نہ ہو

پاتے ہیں کج سرشت جزا اپنے فعل کی

کہتی ہے راستی کہ برے کا بھلا نہ ہو

بلبل نہ پھول خندۂ صبح بہار پر

ناداں کہیں یہ خندۂ دنداں نما نہ ہو

تیری زباں پہ آئے اگر حرف التیام

کیونکر شکست دل کے لیے مومیا نہ ہو

غافل مریض عشق کی تُو نے خبر نہ لی

تھا غیر اس کا حال وہ اب تک ہو یا نہ ہو

شرمندہ اے کریم نہ ہوں عاشقوں میں ہم

پرسش ہمارے قتل کی روز جزا نہ ہو

کرتا ہے اے اثرؔ دل خوں گشتہ کا گلہ

عاشق وہ کیا کہ خستۂ تیغ جفا نہ ہو


امداد امام اثر

No comments:

Post a Comment