Wednesday, 9 February 2022

کبھی کبھی تو یہ حالت بھی کی محبت نے

 کبھی کبھی تو یہ حالت بھی کی محبت نے

نڈھال کر دیا مجھ کو تِری محبت نے

تِری یہ پہلی محبت ہے تجھ کو کیا معلوم

گُھلا دیا مجھے اس آخری محبت نے

وہ یوں بھی خیر سے سرما کا چاند تھی لیکن

اسے اجال دیا اور بھی محبت نے

مجھے خدا نے ادھورا ہی چھوڑنا تھا مگر

مجھے بنا دیا اک شخص کی محبت نے

یہ تم جو میرے لیے خواب چھوڑ آئی ہو

تمہیں جگایا تو ہو گا مِری محبت نے

میں جس کو پہلے پہل دل لگی سمجھتا تھا

مجھے تو مار دیا اس نئی محبت نے

یہ اپنے اپنے نصیبوں کی بات ہے ورنہ

کسی کو میر بنایا اسی محبت نے

یہ جسم و جان یہ نام و نمود حسب و نسب

یہ سارے وہم تھے عزت تو دی محبت نے

محبت اور عبادت میں فرق تو ہے ناں

سو چھین لی ہے تِری دوستی محبت نے


افتخار مغل

No comments:

Post a Comment