تم گول روٹی پکاتی ہوئی عورت ہو
کہ کھیتوں میں کپاس چُنتی ہوئی شہزادی
گائنی وارڈ میں دردِ زہ سے کراہتی عورت کی آخری اُمید
لال لپ سٹک لگائے سوڈے کی بوتل بیچتی ہوئی مہ جبیں
نسلیں سنوارتی ہوئی اُستانی
یا ہوائی جہاز اڑاتی ہوئی شاہین
یا کچھ اور، کہیں اور، کچھ بھی کرتی ہوئی
تم ہر حال میں خُوشبو کی عکاس ہو
تم پانچ فٹ ہو یا اس سے کچھ زیادہ یا کم
سب سے چھوٹے سائز میں فِٹ آ جاتی ہو
یا ایکسٹرا لارج لینا پڑتا ہے
ماتھے پہ کچھ شِکنیں ہیں
یا رُخسار پہ کوئی جھائیاں
رنگ تھوڑا دبتا ہے یا دودھ سا سفید
اپنے آپ کو کبھی چھوٹے بڑے قد
کالے سفید رنگ کے
جھانسے میں مت آنے دینا
کہ اس جسم کے اندر جو دل اور دماغ ہیں
بے حد خوبصورت ہیں
اگر تمہیں پھر بھی شک ہو تو
روزانہ صبح و شام ایک وظیفہ پڑھا کرو
میں سب سے اچھی ہوں، میں سب سے عمدہ ہوں
میرے جیسا نہ پہلے پیدا ہوا
نہ میرے جیسا بعد میں پیدا ہو گا
اس وظیفے کا ہر لفظ سچا ہے
کہ تم ہر حال میں حُسن کی عکاس ہو
کہانیاں پڑھنا ضرور مگر ان میں رہنا نہیں
تم کاہل شہزادیاں نہیں
اور نہ نیند کی اسیر
کہ سفید گھوڑے پہ آ کر کسی شہزادے کو
تمہارے لبوں پر زندگی پھونکنی پڑے
کہ تم ہر حال میں خود زندگی کی عکاس ہو
یہ دولت، یہ گہنے، یہ پہناوے
بڑی گاڑی یا چار کنال کا گھر
ہر سیزن میں کسی بڑی ڈیزائنر کے کپڑے
یا سکس فگر سیلری
بمع ایک عدد آقا کے
تم قبول مت کرنا
جب آقا کے چابک برستے ہیں
تو روح کو زیور سے خوشی نہیں ہوتی
تم اتنی کاہل نہیں کہ ساتھی کے ساتھ مل کے
اک ذرا سا محل نہ کھڑا کر سکو
رشتے روحوں سے جوڑنا میری جان! روپوں سے نہیں
کہ تم خود بے حد قیمتی ہو
کہ تم خود زندگی، خوشبو اور حسن کی عکاس ہو
رفعت جبیں
No comments:
Post a Comment