ہوس کا کوئی نشاں قریۂ ہوس میں نہیں
لہو رگوں میں نہیں اور دم نفس میں نہیں
یہی ہیں نقلِ مکانی کے دو مقام اُس کے
شجر پہ ہو گا پرندہ اگر قفس میں نہیں
میں پڑھ چکا ہوں سب اگلے جنم کا کیلنڈر
تمہارا قرب میسر کسی برس میں نہیں
ستم تو یہ ہے کہ تصویر ہو نہیں پایا
میں اک خیال مصور کی دسترس میں نہیں
پکارتا ہے مجھے کون شب کے پچھلے پہر
سروش کس کی صدا میرے پیش و پس میں نہیں
اجمل سروش
No comments:
Post a Comment