Tuesday, 8 February 2022

ہوس کا کوئی نشاں قریۂ ہوس میں نہیں

 ہوس کا کوئی نشاں قریۂ ہوس میں نہیں

لہو رگوں میں نہیں اور دم نفس میں نہیں

یہی ہیں نقلِ مکانی کے دو مقام اُس کے

شجر پہ ہو گا پرندہ اگر قفس میں نہیں

میں پڑھ چکا ہوں سب اگلے جنم کا کیلنڈر

تمہارا قرب میسر کسی برس میں نہیں

ستم تو یہ ہے کہ تصویر ہو نہیں پایا

میں اک خیال مصور کی دسترس میں نہیں

پکارتا ہے مجھے کون شب کے پچھلے پہر

سروش کس کی صدا میرے پیش و پس میں نہیں


اجمل سروش

No comments:

Post a Comment