Wednesday, 7 December 2016

دل لگانے کی کسی سے وہ سزا پائی کہ بس

دل لگانے کی کسی سے وہ سزا پائی کہ بس
ایسی ایسی عشق میں اس دل پہ بن آئی کہ بس
کیا خبر کعبہ تھا بت خانہ تھا یا تھا کوئے دوست
چلتے، چلتے، دفعتاً مجھ کو نِدا آئی کہ بس
اب تو سب کہنے لگے 'دیوانہ دیوانہ' مجھے
اور ہے منظور تم کو اپنی رسوائی کہ بس
یوں تو مدت تک نہیں آیا کبھی ان کا خیال
اور جب آئے تو ان کی ایسی 'یاد' آئی کہ بس
میری بربادی پہ جب اظہارِ غم اس نے کِیا
مجھ کو بھی بے ساختہ ایسی ہنسی آئی کہ بس

شمیم جے پوری

No comments:

Post a Comment