دل لگانے کی کسی سے وہ سزا پائی کہ بس
ایسی ایسی عشق میں اس دل پہ بن آئی کہ بس
کیا خبر کعبہ تھا بت خانہ تھا یا تھا کوئے دوست
چلتے، چلتے، دفعتاً مجھ کو نِدا آئی کہ بس
اب تو سب کہنے لگے 'دیوانہ دیوانہ' مجھے
یوں تو مدت تک نہیں آیا کبھی ان کا خیال
اور جب آئے تو ان کی ایسی 'یاد' آئی کہ بس
میری بربادی پہ جب اظہارِ غم اس نے کِیا
مجھ کو بھی بے ساختہ ایسی ہنسی آئی کہ بس
شمیم جے پوری
No comments:
Post a Comment