کعبے سے بتکدے سے کبھی بزمِ یار سے
آواز دے رہا ہوں تجھے ہر مقام سے
نا آشنا ہے آج وہی میرے نام سے
دنیا پکارتی تھی جنہیں میرے نام سے
اف یہ شبِ فِراق کے ماروں کی بےخودی
دل میں فریب، لب پہ تبسم، نظر میں پیار
لْوٹے گئے شمیمؔ بڑے احتمام سے
شمیم جے پوری
No comments:
Post a Comment