اگر تُو کہے تو
میں شاخِ شبِ قدر سے توڑ لاؤں
چمکتے دمکتے ستاروں کے گُچھے
انہیں اک سنہری سُبک طشتری میں رکھوں
اور تجھے پیش کر دوں
کہ لے میرے عشقِ زبوں پر یقیں کر
اگر تُو کہے تو
چہکتے بہشتی پرندوں پہ چُپکے سے اک جال پھینکوں
انہیں پھڑپھڑاتے ہوئے ہی گرفتار کر لوں
غباروں کے مانند دھاگوں سے باندھوں
تجھے پیش کر دوں
کہ لے میرے جذبِ دروں پر یقیں کر
اگر تُو کہے تو
بُخارا، سمرقند، تہران، شیراز
لاہور اور قرطبہ کی فضاؤں سے خوشبو چراؤں
اسے اپنی آنکھوں میں بھر کے
تجھے پیش کر دوں
کہ لے چاہتوں کے فسوں پر یقیں کر
اگر تُو کہے تو
شفق رنگ بارش کے قطروں سے مالا بناؤں
خموشی کے ساتوں سُروں سے
کوئی گیت بالکل نرالا بناؤں
محبت کے اظہار کا اک انوکھا حوالہ بناؤں
تیرے نام کا پھول کوئی سدا رہنے والا بناؤں
اسے اپنی ویراں ہتھیلی پہ رکھ کے
تجھے پیش کر دوں
کہ لے اب تو میرے جنوں پر یقیں کر
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment