عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کب مرے یا رب، بہ عنوان ہنر کہتا ہوں میں
نعت جب کہتا ہوں تیرے حکم پر کہتا ہوں میں
حکم تیرا ہے کروں مدحِ نبیﷺ میں تیرے بعد
تُو ہے سب کچھ، اور انہیں خیر البشرؐ کہتا ہوں میں
اُنﷺ کے ذکرِ خیر پر لازم ہے آنکھوں کا وضو
جو کہوں اُنﷺ کے لیے با چشمِ تر کہتا ہوں میں
رفتہ رفتہ کس طرح پہنچا میں اُنؐ کے پاؤں تک
سجدہ سجدہ اپنی رودادِ سفر کہتا ہوں میں
مانتا ہے کر کے بند آنکھیں جو احکامِ رسولؐ
صرف ایسے شخص کو اہلِ نظر کہتا ہوں میں
اے خدا یہ بھی مجھے تیرے نبیﷺ کی دین ہے
بات جو کہتا ہوں بے خوف و خطر کہتا ہوں میں
میں ہوں دربارِ محمدﷺ کا قصیدہ خواں قتیل
اس لیے اپنے سخن کو معتبر کہتا ہوں میں
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment