دل مضطرب ہے دیدۂ تر لے کے آ گیا
مجھ کو جنونِ عشق کدھر لے کے آ گیا
ہنستا ہوا گیا تِری محفل میں ہر کوئی
لوٹا تو ساتھ دردِ جگر لے کے آ گیا
پہلے تو قتل کر دیا کافر نگاہ سے
پھر یہ ستم کے تیغ و تبر لے کے آ گیا
دیوانگی تھی یہ کہ ہتھیلی پہ رکھ کے دل
میں جس طرف گئی وہ ادھر لے کے آ گیا
میں اس کا نام لکھنے سے انکار کر تو دوں
مہندی وہ اپنے ساتھ مگر ہے کےآ گیا
لہجے کو اس نے ایسے تراشا کہ یوں لگا
خنجر کا وہ زباں میں اثر لے کے آ گیا
جس میں تھا موجِ آب سے لڑنے کا حوصلہ
مٹھی میں اپنی لعل و گہر لے کے آ گیا
دل رفتہ رفتہ بھول رہا تھا اسے مگر
قاصد پھر آج اس کی خبر لے کے آ گیا
جس کو تھی راہِ عشقِ میں منزل کی جستجو
"انجام یہ کہ گردِ سفر لے کے آ گیا"
ارشاد تیری بزم سے لوٹا جو ساتھ میں
طرزِ سخن وری کا ہنر لے کے آ گیا
شمس و قمر کا عطیہ طلب گار دل نہ تھا
جگنو کی روشنی کو ہی گھر لے بن کے آ گیا
عطیہ نور
No comments:
Post a Comment