دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے
اے عشق پر نہ کوئی تِری راہ میں پڑے
مت پوچھ جورِ غم سے دلِ ناتواں کا حال
بجلی تو دیکھی ہو گی کبھی کاہ میں پڑے
اک دم بھی دیکھ سکتا نہیں ہم کو اس کے پاس
خاک اس فلک کے دیدۂ بدخواہ میں پڑے
جو دوستی کے نام سے رکھتا ہو دشمنی
دیوانہ ہو جو اس کی کوئی چاہ میں پڑے
آ جا کہیں شتاب کہ مانندِ نقش پا
تکتے ہیں راہ تیری سرِ راہ میں پڑے
جلوے دو چند ہوویں شبِ ماہ کے ابھی
اس ماہ رُو کا عکس اگر ماہ میں پڑے
سُلگے ہے نیم سوختہ جیسے دھوئیں کے ساتھ
جلتے ہیں یوں ہم اپنی حسن آہ میں پڑے
میر حسن
No comments:
Post a Comment