تمام رات کسی کرب میں گزاری ہے
ہمیں نہ پوچھ جو حالت میاں ہماری ہے
وہ تھاپ ڈھول کی اب تک سنائی دیتی ہے
ابھی بھی لگتا ہے جیسے دھمال جاری ہے
کہیں پہ پیچھے محبت بھی پل رہی تھی مگر
ہمیں بتایا گیا تھا یہ صرف یاری ہے
ہنر تو تب ہے کوئی چور چوری کر بھی لے
غزل ہماری بتائے کہ وہ ہماری ہے
تِرا شباب ڈھلے گا تو تجھ سے پوچھیں گے
ابھی تو سارا زمانہ تِرا پجاری ہے
کوئی بھی شخص کسی کے لیے نہیں مرتا
ہر ایک شخص کو اپنی ہی جان پیاری ہے
یہ جس کو لوگ محبت بتا رہے ہیں یہاں
قسم سے کچھ بھی نہیں ہے نِری خواری ہے
ہماری ذات پہ کیچڑ اُچھالنے والے
ہمیں خبر ہے کہ اوقات کیا تمہاری ہے
ضرور مجھ کو یہ پاگل بنا کے چھوڑے گا
دل و دماغ پہ مہدی جو عشق طاری ہے
جاوید مہدی
No comments:
Post a Comment