Wednesday, 20 April 2022

تمام رات کسی کرب میں گزاری ہے

 تمام رات کسی کرب میں گزاری ہے 

ہمیں نہ پوچھ جو حالت میاں ہماری ہے 

وہ تھاپ ڈھول کی اب تک سنائی دیتی ہے 

ابھی بھی لگتا ہے جیسے دھمال جاری ہے 

کہیں پہ پیچھے محبت بھی پل رہی تھی مگر 

ہمیں بتایا گیا تھا یہ صرف یاری ہے

ہنر تو تب ہے کوئی چور چوری کر بھی لے 

غزل ہماری بتائے کہ وہ ہماری ہے 

تِرا شباب ڈھلے گا تو تجھ سے پوچھیں گے 

ابھی تو سارا زمانہ تِرا پجاری ہے 

کوئی بھی شخص کسی کے لیے نہیں مرتا 

ہر ایک شخص کو اپنی ہی جان پیاری ہے 

یہ جس کو لوگ محبت بتا رہے ہیں یہاں 

قسم سے کچھ بھی نہیں ہے نِری خواری ہے 

ہماری ذات پہ کیچڑ اُچھالنے والے 

ہمیں خبر ہے کہ اوقات کیا تمہاری ہے 

ضرور مجھ کو یہ پاگل بنا کے چھوڑے گا 

دل و دماغ پہ مہدی جو عشق طاری ہے


جاوید مہدی

No comments:

Post a Comment