شام
خوبصورت تھی وہ
اپسراؤں سے بڑھ کر کہیں
خوبصورت تھی وہ
دن ڈھلے
ملگجی خامشی اوڑھ کر
میرے کمرے میں آئی تھی جب
تو اکیلا تھا میں
اس کے ہونٹوں سے میں نے
محبت کا امرت پیا
اس کے سینے سے لگ کر وہ سب کچھ کہا
جو مِرے دل میں تھا
رات ہونے تلک
میں نے اس کو بہت خوش رکھا
اور اس نے مجھے بھی
پھر خوشی جیسے میرے گلے پڑ گئی
جو ہوا سو ہوا کہہ کے
جاں بھی چڑھائی
(کہ جو کچھ ہوا اس کی مرضی سے تھا)
مگر وہ تو جیسے مِری جان کو آ گئی
اس کی خواہش تھی میں اس کے
حسنِ فسوں گر کا ہو کر رہوں
جو کہ میری طبیعت نہ تھی
اور ویسے بھی میرے لیے ایسا کرنا
کسی طور ممکن نہ تھا
اب کوئی اور تھی جس کی خواہش مجھے
وجہِ آرام تھی
کیونکہ میرے تصور میں
اس سے بھی بڑھ کر
حسیں شام تھی
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment