Wednesday, 20 April 2022

شام خوبصورت تھی وہ

 شام 

خوبصورت تھی وہ

اپسراؤں سے بڑھ کر کہیں

خوبصورت تھی وہ

دن ڈھلے

ملگجی خامشی اوڑھ کر

میرے کمرے میں آئی تھی جب

تو اکیلا تھا میں

اس کے ہونٹوں سے میں نے

محبت کا امرت پیا

اس کے سینے سے لگ کر وہ سب کچھ کہا

جو مِرے دل میں تھا

رات ہونے تلک

میں نے اس کو بہت خوش رکھا

اور اس نے مجھے بھی

پھر خوشی جیسے میرے گلے پڑ گئی

جو ہوا سو ہوا کہہ کے

جاں بھی چڑھائی

(کہ جو کچھ ہوا اس کی مرضی سے تھا)

مگر وہ تو جیسے مِری جان کو آ گئی

اس کی خواہش تھی میں اس کے

حسنِ فسوں گر کا ہو کر رہوں

جو کہ میری طبیعت نہ تھی

اور  ویسے بھی میرے لیے ایسا کرنا

کسی طور ممکن نہ تھا

اب کوئی اور تھی جس کی خواہش مجھے

وجہِ آرام تھی

کیونکہ میرے تصور میں

اس سے بھی بڑھ کر

حسیں شام تھی 


کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment