ملی ترانہ میرے وطن کے راہنماؤ
میرے وطن کے راہنماؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
جس میں ہو صدیقؓ کی عظمت
جس میں ہو عثمانؓ کی عقیدت
جس میں ہو فاروقؓ کی جرئات
جس میں ہو حیدرؓ کی شجاعت
مِٹ جائیں ظلمات کے گھاؤ
طارقؓ کی تدبیر ہو جس میں
خالدؓ کی تقدیر ہو جِس میں
مجحن کی زنجیر ہو جس میں
قرآں کی تاثیر ہو جِس میں
مِلّت کے جذبات جگاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
عقل و خرد کی آنکھ کا تارا
طوفاں میں مضبوط کنارا
مفلس اور نادار کا پیارا
جہد و عمل کا بہتا دھارا
فکر و نظر کی شمع جلاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
سر توڑے جو مغروروں کا
ساتھی ہو جو مہجوروں کا
دارِ ستم کے منصوروں کا
محکُوموں کا مجبوروں کا
چل نہ سکے زردار کا داؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
خدمتِ انساں کام ہو جس کا
فیضِ سخاوت عام ہو جس کا
کام فقط اسلام ہو جس کا
شانِ سلف پیغام ہو جس کا
وقت کے پرچم کو لہراؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
ساغر صدیقی
No comments:
Post a Comment