Thursday, 11 February 2021

چمن چمن کلی کلی روش روش پکار دو

 رنگِ وطن 


چمن چمن، کلی کلی، روِش روِش پُکار دو

وطن کو سرفروش دو، وطن کو جاں نثار دو

جو اپنے غیضِ بے کراں سے کوہسارِ پیس دیں

جو آسماں کو چِیر دیں، ہمیں وہ شہسوار دو

یہی ہے عظمتوں کا اِک اصُولِ جاوداں حضُور

امیر کو شجاعتیں،۔ غریب کو وقار دو

نظر نظر میں موجزن تجلّیوں کے قافلے

وہ جذبۂ حیاتِ نَو، بشر بشر اُبھار دو

شعور کے لباس میں صداقتیں ہیں مُنتظر

خلوص و اعتبار کے جہان کو نِکھار دو

تصوّرات زندگی کو پِھر لہُو کا رنگ دیں

چلو! جنُوں کی وُسعتوں پہ دانشوں کو وار دو

فضائیں جس کی نکہتوں سے ہوں وقارِ گُلستاں

تو ایسے ایسے پُھول کو ستارۂ بہار دو

جو چشم و دل کے ساتھ ساتھ میکدے کو پُھونک دے

مُجھے خُدا کے واسطے وہ جامِ پُراسرار دو

چھلک رہا ہے خلوتوں میں ساغرِؔ مشاہدات

اُٹھو سنخورو! زمیں پہ کہکشاں اُتار دو


ساغر صدیقی

No comments:

Post a Comment