Saturday, 8 May 2021

بات مہندی سے لہو تک آ گئی

 بات مہندی سے لہو تک آ گئی

گفتگو اب تم سے تُو تک آ گئی

اب وہ شغلِ چاک دامانی کہاں

اب طبیعت تو رفُو تک آ گئی

جان جائے یار ہے اب ڈر نہیں

بات اپنی آبرو تک آ گئی

آرزو تھی جس کو پانے کی ہمیں

جستجو اس آرزو تک آ گئی

بُوٹے بُوٹے سے نمایاں ہے بہار

ڈالی ڈالی رنگ و بُو تک آ گئی

وصل کی شب اور اتنی مختصر

باتوں باتوں میں وضو تک آ گئی


ظفر کلیم

No comments:

Post a Comment