Sunday, 9 May 2021

پاؤں زخمی اور تھکن سے چور ہیں ہم

 پاؤں زخمی اور تھکن سے چُور ہیں ہم

پھر بھی چلتے رہنے پر مجبور ہیں ہم

سو جائیں تو لاپرواہی ہو گی کیا؟

خوابوں کی رکھوالی پر معمور ہیں ہم

ہر اک دور کے ماتھے پر ہی ہوتے ہیں

پر تاریخ کے ماتھے کا سیندور ہیں ہم

ہاتھ اگر ہم کھینچ لیں، دنیا رک جائے

ہم ہاری، ہم محنت کس، مزدور ہیں ہم


اختر منیر

No comments:

Post a Comment