پاؤں زخمی اور تھکن سے چُور ہیں ہم
پھر بھی چلتے رہنے پر مجبور ہیں ہم
سو جائیں تو لاپرواہی ہو گی کیا؟
خوابوں کی رکھوالی پر معمور ہیں ہم
ہر اک دور کے ماتھے پر ہی ہوتے ہیں
پر تاریخ کے ماتھے کا سیندور ہیں ہم
ہاتھ اگر ہم کھینچ لیں، دنیا رک جائے
ہم ہاری، ہم محنت کس، مزدور ہیں ہم
اختر منیر
No comments:
Post a Comment