Sunday, 9 May 2021

گلشن عشق میں غنچہ بھی کلی ہوتا ہے

 گلشن عشق میں غنچہ بھی کلی ہوتا ہے

نام عاشق کا بھی معشوق علی ہوتا ہے

خان کہتا ہے وہاں مونگ پھلی ہوتا ہے

پھول ہوتی ہے پشاور میں کلی ہوتا ہے

جب وہ پڑھتی ہے ترنم سے غزل کا مطلع

اس کی آنکھوں میں بھی ایطائے جلی ہوتا ہے

ایک بیوی پہ جو کرتا ہے قناعت تا عمر

وہ تو شوہر نہیں ہوتا ہے ولی ہوتا ہے

ساس نے آج کھلائی ہے جلیبی مجھ کو

نیم کا پیڑ بھی مصری کی ڈلی ہوتا ہے

مارشل لا کا میں حامی تو نہیں ہوں لیکن

دور جمہور بھی اب بند گلی ہوتا ہے

جس کے لہجہ میں ہو شائستگی طنز لطیف

ایسا شاعر ہی ظریف ازلی ہوتا ہے


خالد عرفان

No comments:

Post a Comment