Sunday, 9 May 2021

آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے

 آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے

مجھ میں سجی ہوئی مگر اک انجمن تو ہے

سانسوں کو اس کی یاد سے نسبت ہے آج بھی

مجھ میں کسی بھی طور سہی بانکپن تو ہے

ہر صبح چہچہاتی ہے چِڑیا منڈیر پر

ویران گھر میں آس کی کوئی کرن تو ہے

ممکن ہے اس کا وصل میسر نہ ہو مجھے

لیکن اس آرزو سے مِرا گھر چمن تو ہے

ہر وقت محوِ رقص ہے چہرہ خیال میں

بے ربط زندگی ہے مگر دل مگن تو ہے

ہر لمحہ اس سے رہتا ہوں مصروف گفتگو

کہنے کو میرے ساتھ کوئی ہم سخن تو ہے

میرے لیے یہ بات ہی کافی ہے اے روش

کچھ بھی ہو مجھ میں اب بھی مِرا اپنا پن تو ہے


شمیم روش

No comments:

Post a Comment