Sunday, 9 May 2021

جی میں آتا ہے کہ اک روز یہ منظر دیکھیں

 جی میں آتا ہے کہ اک روز یہ منظر دیکھیں

سامنے تجھ کو بٹھائیں تجھے شب بھر دیکھیں

آج بھی شہر میں ہے میری وفا کی شہرت

آئیں اور آ کے ذرا میرے ستمگر دیکھیں

بند ہے شام سے ہی شہر کا ہر دروازہ

آ شبِ ہجر کہ اب اور کوئی گھر دیکھیں

ایسے ہم دیکھتے ہیں دل کے اُجڑنے کا سماں

جس طرح داسیاں جلتا ہوا مندر دیکھیں

میرے جنگل میں ہی منگل کا سماں ہے پیدا

شہر کے لوگ مِرے گاؤں میں آ کر دیکھیں


سلیم بیتاب

No comments:

Post a Comment