Sunday, 9 May 2021

گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گا

 گمان تک میں نہ تھا محوِ یاس کر دے گا

وہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اُداس کر دے گا

کرم کرے گا مِرے حال پر، مگر پہلے

شرارتاً وہ مجھے غم شناس کر دے گا

شگفتگئ چمن پر بہت غرور نہ کر

خزاں کا دور تجھے بد حواس کر دے گا

گیا وہ دور کہ جب خار بھی مہکتے تھے

یہ دور وہ ہے جو پھولوں کو ناس کر دے گا

وہ حادثہ جو ابھی میرے ساتھ گزرا ہے

سنو گے تم تو تمہیں بھی اُداس کر دے گا

اسے خبر کہ مِرے دونوں ہاتھ خالی ہیں

مجھے یقین ہے وہ التماس کر دے گا


ظفر کلیم

No comments:

Post a Comment