دل💖 کے اندر آگ لگائی جا سکتی ہے
دل والوں سے جان چھڑائی جا سکتی ہے
اس نے ہنس کر میری جانب دیکھ لیا ہے
یعنی اس سے بات بڑھائی جا سکتی ہے
سات سمندر پار تو باتیں ہو جاتی ہیں
کیا ماضی میں کال ملائی جا سکتی ہے
نئی محبت مہنگی پڑتی ہے تو دیکھو
کوئی پرانی ٹھیک کرائی جا سکتی ہے
دروازے پر دستک دے کر دیکھ لیا ہے
دروازے سے ٹیک لگائی جا سکتی ہے
زندگی سے بھی خواب ہمیں کچھ مل سکتے ہیں
جیسے موت سے نیند چرائی جا سکتی ہے
اختر منیر
کیا میں بھی کلام بھیج سکتی ہوں کوئی
ReplyDeleteYes you can, to contact me please go to About me (میرے بارے میں) click on view my complete profile right click on email and copy email address. You can email your poetry at will, thanks.
Delete