دشتِ جنوں میں پھول کھلاتی چلی گئی
فصل بہار آئی تو آتی چلی گئی
انداز رنگ و بو کے دکھاتی چلی گئی
وہ اک نظر جو دل میں سماتی چلی گئی
آئی سحر تو جلنے لگا باغِ آرزو
موجِ نسیم آگ لگاتی چلی گئی
ہم کو سنائی جب بھی کسی نے وفا کی بات
ماضی کی گرد ذہن پہ چھاتی چلی گئی
غم کی ہوا میں زویا جلا کر فراق کو
شب آئی اور چراغ بجھاتی چلی گئی
زویا علی
No comments:
Post a Comment