موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے والی
اس تماشا گاہ کے
خوف کے حصار میں
دیکھنا بھی جرم تھا
سوچنا بھی جرم تھا
چیخنا بھی جرم تھا
چھپ کے ناظرین سے
چھپ کے سامعین سے
چھپ کے آسمان سے
چھپ کے اس زمین سے
سوچتی بھی تھی مگر
دیکھتی بھی تھی مگر
چیختی بھی تھی مگر
وہ کہ جس کی زندگی
گول گول گھومتے
دائروں میں کٹ گئی
شبنم شکیل
No comments:
Post a Comment