ورثہ
وہ اک ترتیب سے رکھی بھلی معلوم ہوتی ہیں
اور خوف انجانا، ان دیکھا نہیں
بلکہ یقین کی سرحد کو چھُوتا ہوا ڈر
یہ سب اچھا سہی لیکن نہ جانے کس لیے پھر بھی
میں اکثر دل ہی دل میں سوچ کر کچھ کانپ اٹھتی ہوں
کہ اب میری شباہت کی میری نازوں پلی بیٹی
میری سب ترک کردہ سوچ کے بے کار ورثے
اکٹھا کر رہی ہے اور جھولی بھرتی جاتی ہے
شبنم شکیل
No comments:
Post a Comment