Tuesday, 8 June 2021

کوشش ذرا سی کی جو دعاؤں کے ساتھ ساتھ

 کوشش ذرا سی کی جو دعاؤں کے ساتھ ساتھ

جلنے لگے چراغ ہواؤں کے ساتھ ساتھ

نکلے بہار اوڑھ کے کچھ خوش نما بدن

خوشبو بھی ہمسفر ہے قباؤں کے ساتھ ساتھ

چہرہ کشا ہوا ہے کوئی گیسوؤں کے بیچ

لگنے لگی ہے دھوپ بھی چھاؤں کے ساتھ ساتھ

شہروں سے مختلف ہیں یہ گاؤں کی لڑکیاں

بھرتی ہیں گاگریں بھی اداؤں کے ساتھ ساتھ

یوں تو میں اس دیار سے کچھ بھی نہ لا سکا

کچھ خاک لگ کے آ گئی پاؤں کے ساتھ ساتھ


نثار محمود تاثیر

No comments:

Post a Comment