Tuesday, 8 June 2021

سر پہ اب سائباں نہیں پیارے

 سر پہ اب سائباں نہیں پیارے

سو کہیں بھی اماں نہیں پیارے

کون دیتا ہے یہ صدائیں اگر

اپنا کوئی وہاں نہیں پیارے

منزل عشق ہو نصیب نہ ہو

یہ سفر رائیگاں نہیں پیارے

نہ رہا خود پہ اعتبار مجھے

تجھ سے تو بدگماں نہیں پیارے

کارِ دل ہے سو اس لیے اس میں

فکرِ سُود و زیاں نہیں پیارے


جہاں آرا تبسم

No comments:

Post a Comment