تمہارے پہلو میں جو ہماری جگہ کھڑا ہے
اسے بتاؤ وہ شخص کس کی جگہ کھڑا ہے
ہمارے شانوں پہ پیر رکھے ہوئے ہیں اس نے
وہ پست قامت ہے لیکن اونچی جگہ کھڑا ہے
تمہاری رُخصت سے ہم بھلا کیوں اکیلے پڑتے
تمہارا دُکھ آج تک تمہاری جگہ کھڑا ہے
جُدا ہوئے جس کے سامنے دو لرزتے سائے
وہ پیڑ رستے میں اب بھی اپنی جگہ کھڑا ہے
تمہاری کرنوں سے رات بھر مستفید ہو گا
فلک پہ مہتاب کتنی اچھی جگہ کھڑا ہے
کوئی بدن پیرہن کی درزوں سے جھانکتا ہے
کسی کا بوسہ اُسی پرانی جگہ کھڑا ہے
خدا خبر کس کی آنکھ تھی کیمرے کے پیچھے
اک اجنبی میری دیکھی بھالی جگہ کھڑا ہے
عدنان محسن
No comments:
Post a Comment