مٹی کی عورت
بڑی باتیں بناتے ہو
بڑے نعرے لگاتے ہو
کتابوں سے
صحیفوں سے
خود اپنی ذات کے آرام کی خاطر
فسانے گھڑ کے لاتے ہو
مجھے نیچا دکھانے کے لیے
مذہب
سیاست
اور دولت کی بساطوں پہ
کڑی شرطیں لگاتے ہو
مگر
تُم ہار جاتے ہو
میں اپنی ذات میں اتنا بڑا سچ ہوں
کہ خود خالق
میری تخلیق پہ
شاداں و فرحاں ہے
جہاں میں زندگی میری وجہ سے ہے
میں لامحدود ہو جاؤں
تو اپنی ناف میں
دنیا کے سارے پانیوں کو
ڈھانپ کے رکھوں
جماداتی
نباتاتی نمُو کو
اپنے سینے سے لگا کر زندگی دے دوں
سمٹ جاؤں
تو بستر میں
تمہاری وحشتوں کو
شانتی دے کر
میں نسلِ آدم و حوا کو
اپنی کوکھ میں پالوں
مکاں کو گھر بنا کر
زندگی باغِ بریں کر دوں
تم اپنی آسمانی شان
اپنے پاس ہی رکھو
میں اس دنیا کی دھڑکن ہوں
میں اک مٹی کی عورت ہوں
ثمینہ تبسم
No comments:
Post a Comment