Tuesday, 8 June 2021

میں اک مٹی کی عورت ہوں

 مٹی کی عورت


بڑی باتیں بناتے ہو

بڑے نعرے لگاتے ہو

کتابوں سے

صحیفوں سے

خود اپنی ذات کے آرام کی خاطر

فسانے گھڑ کے لاتے ہو

مجھے نیچا دکھانے کے لیے

مذہب

سیاست

اور دولت کی بساطوں پہ

کڑی شرطیں لگاتے ہو

مگر

تُم ہار جاتے ہو

میں اپنی ذات میں اتنا بڑا سچ ہوں

کہ خود خالق

میری تخلیق پہ

شاداں و فرحاں ہے

جہاں میں زندگی میری وجہ سے ہے

میں لامحدود ہو جاؤں

تو اپنی ناف میں

دنیا کے سارے پانیوں کو

ڈھانپ کے رکھوں

جماداتی

نباتاتی نمُو کو

اپنے سینے سے لگا کر زندگی دے دوں

سمٹ جاؤں

تو بستر میں

تمہاری وحشتوں کو

شانتی دے کر

میں نسلِ آدم و حوا کو

اپنی کوکھ میں پالوں

مکاں کو گھر بنا کر

زندگی باغِ بریں کر دوں

تم اپنی آسمانی شان

اپنے پاس ہی رکھو

میں اس دنیا کی دھڑکن ہوں

میں اک مٹی کی عورت ہوں


ثمینہ تبسم

No comments:

Post a Comment