Friday, 9 July 2021

کھینچ لاتی تھی کسی چاہ کی تحریک مجھے

 کھینچ لاتی تھی کسی چاہ کی تحریک مجھے

ویسے وہ گاؤں نہیں پڑتا تھا نزدیک مجھے

کان دھرتے ہی نہ تھے لوگ صدا پر میری

دستکیں دیں تو کہیں جا کے ملی بھیک مجھے

یہ بھرم بھی کسی شیشے کی طرح ہوتا ہے

بعد میں کہہ بھی دیا تُو نے اگر ٹھیک مجھے

یہ سہولت بھی اضافی ہے تِرے ہونے سے

کرنی پڑ جائے اگر حُسن پہ تحقیق مجھے

اتنا مُفلس ہوں، محبت سے کوئی دیکھے تو

ہونے لگ جاتا ہے اندیشۂ تضحیک مجھے

دل میں رکھی نہ کبھی وصل کی خواہش تاثیر

عشق میں ہجر بھی ہے ہدیۂ تبریک مجھے


نثار محمود تاثیر

No comments:

Post a Comment