کھینچ لاتی تھی کسی چاہ کی تحریک مجھے
ویسے وہ گاؤں نہیں پڑتا تھا نزدیک مجھے
کان دھرتے ہی نہ تھے لوگ صدا پر میری
دستکیں دیں تو کہیں جا کے ملی بھیک مجھے
یہ بھرم بھی کسی شیشے کی طرح ہوتا ہے
بعد میں کہہ بھی دیا تُو نے اگر ٹھیک مجھے
یہ سہولت بھی اضافی ہے تِرے ہونے سے
کرنی پڑ جائے اگر حُسن پہ تحقیق مجھے
اتنا مُفلس ہوں، محبت سے کوئی دیکھے تو
ہونے لگ جاتا ہے اندیشۂ تضحیک مجھے
دل میں رکھی نہ کبھی وصل کی خواہش تاثیر
عشق میں ہجر بھی ہے ہدیۂ تبریک مجھے
نثار محمود تاثیر
No comments:
Post a Comment