بُنے جو خواب تمہارے ہیں اپنے ہاتھوں سے
کمائے ہم نے خسارے ہیں اپنے ہاتھوں سے
ہمیں نصیب کے چکر میں ڈال کر اس نے
کسی کے بخت سنوارے ہیں اپنے ہاتھوں سے
وہ جس کے لہجے کو خوشبو بتا رہا ہوں میں
اسی نے پھول نکھارے ہیں اپنے ہاتھوں سے
لگائی ہم نے ہی داؤ پہ زندگی اپنی
اور اپنا عشق بھی ہارے ہیں اپنے ہاتھوں سے
جو جان لیوا ہوئے ہیں میاں! انہوں نے کبھی
ہمارے صدقے اُتارے ہیں اپنے ہاتھوں سے
یہ جتنے بولنے والے ہیں آج مجھ پہ ضریم
بنائے سارے کے سارے ہیں اپنے ہاتھوں سے
عبداللہ ضریم
No comments:
Post a Comment