ہجر کے پہلے الاؤ کا سبب بنتا ہے
آنکھ لڑنا ہی تو گھاؤ کا سبب بنتا ہے
کیا تجھے علم ہے اے حسن بلاخیز کہ تُو
کتنے ہونٹوں کے کٹاؤ کا سبب بنتا ہے
وہ مِرے بعد کسی اور کا ہو جائے تو کیا
تھک کے گرنا بھی پڑاؤ کا سبب بنتا ہے
راکھ کو راکھ سمجھنے میں توقف کیجیے
یہ سمجھنا بھی جلاؤ کا سبب بنتا ہے
کیا انوکھی ہے محبت کی بھی سائنس تاثیر
فاصلہ، اور کھچاؤ کا سبب بنتا ہے
نثار محمود تاثیر
No comments:
Post a Comment