Tuesday, 6 October 2020

ہجر کے پہلے الاؤ کا سبب بنتا ہے

 ہجر کے پہلے الاؤ کا سبب بنتا ہے

آنکھ لڑنا ہی تو گھاؤ کا سبب بنتا ہے

کیا تجھے علم ہے اے حسن بلاخیز کہ تُو

کتنے ہونٹوں کے کٹاؤ کا سبب بنتا ہے

وہ مِرے بعد کسی اور کا ہو جائے تو کیا

تھک کے گرنا بھی پڑاؤ کا سبب بنتا ہے

راکھ کو راکھ سمجھنے میں توقف کیجیے

یہ سمجھنا بھی جلاؤ کا سبب بنتا ہے

کیا انوکھی ہے محبت کی بھی سائنس تاثیر

فاصلہ، اور کھچاؤ کا سبب بنتا ہے


نثار محمود تاثیر

No comments:

Post a Comment