Tuesday, 6 October 2020

جو آگ سے گزرتا ہے اس کا ہے ڈھنگ اور

 جو آگ سے گزرتا ہے اس کا ہے ڈھنگ اور

مٹی کا رنگ اور ہے، کوزے کا رنگ اور

کرتا بھی کیا جو تیغ کو کرتا نہ میں نیام

دیوار پر سجاؤں تو لگتا ہے زنگ اور

ناکام ہو کے عشق ميں کرنا ہے پھر سے عشق

ہونی ہے زندگی سے ابھی ایک جنگ اور

حیران ہوں زمانے کی رفتار دیکھ کر

چلتا ہوں اس سے تیز تو ہوتا ہوں دنگ اور

دیوانگی میں رقص نہ کر سب کے سامنے

کر دے گا کوئی پاؤں کی زنجیر تنگ اور


فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment