ہر ایک راگ میں ہر راگنی میں شامل ہے
تِری جدائی کا غم بانسری میں شامل ہے
غلط نہیں ہے اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں
کہ تیرا ہاتھ مِری خود کشی میں شامل ہے
گزشتہ رات تِری یاد ہی نہ تھی, افسوس
گزشتہ رات مِری زندگی میں شامل ہے
چھلک رہی ہے کوئی آنکھ تو چھلکنے دے
تُو بس یہ دیکھ کہ تیری خوشی میں شامل ہے
کسی کا لمس مِری پور پور میں اترا
کسی کا جسم مِری ڈائری میں شامل ہے
جہانزیب ساحر
No comments:
Post a Comment