دل سے مشروط ہے زیبائی سے مشروط نہیں
یہ محبت تِری رعنائی سے مشروط نہیں
یوں اچانک تِرے ملنے سے کھلا ہے مجھ پر
ہر سفر بادیہ پیمائی سے مشروط نہیں
تُو جو چھُو لے تو دسمبر میں پسینہ آ جائے
یہ تپش جون یا جولائی سے مشروط نہیں
سونپ آیا ہوں سمندر کو میں آج اپنا وجود
سو، مِرا ڈوبنا گہرائی سے مشروط نہیں
میں تِرے عشق میں اس موڑ پہ آ پہنچا ہوں
جس جگہ دیکھنا بینائی سے مشروط نہیں
نثار محمود تاثیر
No comments:
Post a Comment