Tuesday, 6 October 2020

یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے

 یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے

ہم لوگ فقط ضربت کاری نہیں رکھتے

قیدی بھی ہیں اس شان کے آزاد تمہارے

زنجیر کبھی زلف سے بھاری نہیں رکھتے

مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت

آغاز تو کر لیتے ہیں، جاری نہیں رکھتے

جیتے ہیں مگر زیست کو آزار سمجھ کر

مرتے ہیں مگر موت سے یاری نہیں رکھتے

مہمان سرا دل کی گرا دیتے ہیں پل میں

ہم صدقۂ جاری کو بھی جاری نہیں رکھتے

تنہا ہی نکلتے ہیں سر کوئے ملامت

ہمراہ کبھی ذلت و خواری نہیں رکھتے


عباس تابش

No comments:

Post a Comment