ہمارے دن پہ اتارے نہ کوئی رات اپنی
ہر ایک شخص کی ہوتی ہے کائنات اپنی
کسی کے منہ کا چبایا ہوا نہیں کھاتا
میں اپنے رنگ میں کرتا ہوں پیش بات اپنی
یہ منحصر ہے اب اس پر کہ رد کرے یا قبول
لکھی تو ہیں اسے خط میں گزارشات اپنی
دکھائی دیتا ہوں جتنا میں اتنا سہل نہیں
بڑھا نہ لینا مروت میں مشکلات اپنی
یہ تم ہو جس نے سکھایا ہے مسکرانا ہمیں
اگرچہ بنتی نہیں تھی خوشی کے ساتھ اپنی
وہاں بھی ہم نے تِرا نام ہی پکارنا ہے
جہاں پہ مانگنے آئیں گے سب نجات اپنی
میں حسن و رنگ سے مانوس تو ہوا ہوں مگر
کبھی بڑھائی نہیں ہیں ضروریات اپنی
نثار محمود تاثیر
No comments:
Post a Comment