Monday, 20 December 2021

ہمارے دن پہ اتارے نہ کوئی رات اپنی

 ہمارے دن پہ اتارے نہ کوئی رات اپنی

ہر ایک شخص کی ہوتی ہے کائنات اپنی

کسی کے منہ کا چبایا ہوا نہیں کھاتا

میں اپنے رنگ میں کرتا ہوں پیش بات اپنی

یہ منحصر ہے اب اس پر کہ رد کرے یا قبول

لکھی تو ہیں اسے خط میں گزارشات اپنی

دکھائی دیتا ہوں جتنا میں اتنا سہل نہیں

بڑھا نہ لینا مروت میں مشکلات اپنی

یہ تم ہو جس نے سکھایا ہے مسکرانا ہمیں

اگرچہ بنتی نہیں تھی خوشی کے ساتھ اپنی

وہاں بھی ہم نے تِرا نام ہی پکارنا ہے

جہاں پہ مانگنے آئیں گے سب نجات اپنی

میں حسن و رنگ سے مانوس تو ہوا ہوں مگر

کبھی بڑھائی نہیں ہیں ضروریات اپنی


نثار محمود تاثیر

No comments:

Post a Comment